’’ میں نے ای سی بی کے ساتھ کافی اچھا وقت گزارا ہے اور میں نے اُنہیں بتادیاتھا کہ میں پاکستان میں کوچنگ کیلئے درخواست دے رہاہوں‘‘ ۔بولنگ کنسلٹنٹ کی بات چیت
اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کرکٹ کو کچھ لوٹایا جائے: مشتاق احمد کا اظہار خیال
پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے بولنگ کنسلٹنٹ مقرر کئے جانیوالے مشتاق احمد نے کہاہے کہ میں محسوس کرتاہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کرکٹ کو کچھ لوٹایا جائے‘‘۔اپنی سابقہ انگلش ٹیم کے حوالے سے نا اُمیدی کا اظہار کرتے ہوئے ’’مُشی ‘‘ نے کہاکہ وکٹ ٹیکر اسپنر کے بغیر انگلینڈ کیلئے آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں دوبارہ ٹاپ پوزیشن حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے۔واضح رہے کہ 43سالہ مشتاق احمد2008ء سے انگلش ٹیم کے ساتھ منسلک تھے۔گزشتہ دنوں نے نئے کوچ پیٹرمورس کو بتادیاتھا کہ انہوں نے جاب حاصل کرنے کیلئے اپنے ملک میں اپلائی کردیا ہے۔پیٹرمورس کے بارے میں اظہارِخیال کرتے ہوئے مشتاق احمد نے کہاکہ ’’ مورس ایک اچھا کوچ اور انسان ہے جبکہ منیجمنٹ میں بھی کافی عمدہ شخص ہے۔میں اُس کی نگرانی میں چار سال تک سسیکس کیلئے کھیلا ہوں مگراُس کیلئے بھی انگلینڈکو ٹاپ رینک ٹیم بناناانتہائی مشکل ہوگا۔گریم سوان انگلینڈکا وکٹ ٹیکنگ اسپنرتھا جبکہ مونٹی پنیسر نے انگلینڈکو نہ صرف29سال بعد بھارت میں جتوانے میں مدد دی بلکہ ایشز سیریز کی کامیابی میں بھی اہم کردار اداکیا‘‘
1992ء کے ورلڈکپ کی فاتح پاکستانی ٹیم کا حصہ رہنے والے مشتاق احمد نے پاکستان ٹیم کا بولنگ کنسلٹنٹ مقررہوجانے کے بعد اپنا اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ’’ میں نے ای سی بی کے ساتھ کافی اچھا وقت گزارا ہے اور میں نے اُنہیں بتادیاتھا کہ میں پاکستان میں کوچنگ کیلئے درخواست دے رہاہوں ۔میں محسوس کرتاہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کرکٹ کو کچھ لوٹایا جائے‘‘۔